16 دسمبر 2013 - 20:30
امریکہ کو شرائط ماننا ہونگی، صدر کرزئی

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے اپنے موقف کو دوہراتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکہ سے سلامتی کے معاہدے پر تب تک دستخط نہیں کریں گے جب تک واشنگٹن افغانستان میں گھروں پر حملوں کے خاتمے اور طالبان سے امن مذاکراتی عمل شروع کرنے پر راضی نہیں ہوتا۔

ابنا: جان کیری اسلام ٹائمز۔ افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے اپنے موقف کو دوہراتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکہ سے سلامتی کے معاہدے پر تب تک دستخط نہیں کریں گے جب تک واشنگٹن افغانستان میں گھروں پر حملوں کے خاتمے اور طالبان سے امن مذاکراتی عمل شروع کرنے پر راضی نہیں ہوتا۔ ایک انٹرویو میں صدر حامد کرزئی نے کہا کہ ان کی طرف سے مجوزہ معاہدے کی توثیق کی یہ حتمی شرائط ہیں۔ ادھر امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے پہلی مرتبہ کہا ہے کہ امریکہ اور افغانستان کے درمیان طے پانے والی سکیورٹی   معاہدے  پر صدر حامد کرزئی کا جانشین بھی دستخط کرسکتا ہے۔ کرزئی نے کہا بھارت افغانستان کیلئے ناگزیر ہوچکا ہے۔ پاکستان کو تجارتی پابندیاں ختم کرنے پر قائل کرنا ہوگا۔

دیگر ذرائع کے مطابق امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے پہلی مرتبہ کہا ہے کہ امریکہ اور افغانستان کے درمیان طے پانے والے سکیورٹی معاہدے پر صدر حامد کرزئی کا جانشین بھی دستخط کرسکتا ہے۔ ایک امریکی ٹیلی وژن کو دیئے گئے انٹرویو میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے واضح کیا کہ امریکہ اور افغانستان کے درمیان طے پانے والی دو طرفہ سکیورٹی ڈیل پر افغان صدر حامد کرزئی کا جلد از جلد دستخط کر دینا اہم تو ہے مگر اپریل کے صدارتی الیکشن میں کامیاب ہونے والے صدر بھی اِس ڈیل پر دستخط کرسکتے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ کے مطابق امریکہ افغانستان میں کامیابی کا متمنی ہے اور اس کامیابی سے مراد ایسی افغان فوج کا موجود ہونا ہے جو اتنی استعداد رکھتی ہو، جو کسی بھی سکیورٹی خطرے کا مقابلہ کرتے ہوئے ملک اور عوام کا تحفظ یقینی بنا سکے۔

واضح رہے کہ پہلی مرتبہ امریکہ کے اعلٰی ترین سفارتکار کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سکیورٹی ڈیل پر افغان صدر کا جانشین بھی دستخط کرسکتا ہے۔ افغانستان میں نئے صدارتی الیکشن اگلے سال اپریل میں ہوں گے اور افغان دستور کے تحت حامد کرزئی مسلسل تیسری مرتبہ صدر کا منصب نہیں سنبھال سکتے۔ یہ امر اہم ہے کہ ڈیل پر دستخط ہونے کے بعد اگلے سال غیر ملکی فوجوں کے انخلاء کے بعد باقی رہ جانے والی غیر ملکی فوج کو قانونی تحفظ میسر ہو جائے گا۔ جان کیری کے مطابق افغان صدر سکیورٹی ڈیل میں مزید ضمانتوں کے طلب گار ہیں۔ جان کیری کا کہنا تھا کہ اگر 2014ء کے بعد افغانستان میں امریکی فوجی نہیں رہتے تو یہ کابل اور سارے ملک کی سکیورٹی کے لیے بہت سے خطرات کا باعث ہوگا۔ کیری کے مطابق ایسی صورت میں کابل حکومت کو سکیورٹی کے انتہائی سنگین چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے اور اِس سے ملکی سلامتی کے بنیادی ڈھانچے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

 گذشتہ دنوں واشنگٹن نے کرزئی حکومت کو متنبہ کیا تھا کہ اگر سکیورٹی ڈیل پر دستخط نہ کیے گئے تو امریکہ افغانستان میں تعینات اپنی تمام فوج اگلے سال کے اختتام تک نکال لے گا۔ ایک سوال پر کہ کیا کرزئی جنوری میں سکیورٹی ڈیل پر دستخط کرسکتے ہیں کیونکہ انہوں نے اس مناسبت سے وعدہ کر رکھا ہے تو امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا جواب نفی میں تھا۔ انٹرویو کے دوران کیری نے اپنے اندر کے تنائو کو مخفی رکھتے ہوئے یہ بھی واضح کیا کہ وہ افغان صدر سے براہ راست بات نہیں کر رہے بلکہ ان کے وزیر کے ساتھ اِس بابت بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ نئی دہلی کے دورے کے دوران افغان صدر حامد کرزئی نے کہا تھا کہ دھونس سے سکیورٹی ڈیل پر دستخط نہیں کروائے جاسکتے۔

.......

/169